خلیفہ ہارون رشید  کے  دور کا واقعہ
khalifa haroon rasheed dor ka waqia
khalifa haroon rasheed ke dor ka waqia 


خلیفہ ہارون رشید کے دور خلافت میں لوگوں کو شدید قحط سالی ( یعنی کھانے پینے کی اشیا۶ کی کمی  )  کا شکار ہوۓ تو خلیفہ ہارون رشید نے لوگوں کو بارگاہ خداوی میں رونے اور دعا  کرنے لہو ولعب ( یعنی گانے بجانے وغیرہ ) کے آلات کو توڑنے کا حکم دیا اسی زمانے میں لوگوں نے ایک غلام کو دیکھا بڑا خوش مطمٸن دکھاٸی دے رہا تھا اسے خلیفہ ہارون رشید کی خدمت میں پیش کر دیا گیا خلیفہ نے اس سے خوشی و اطمینان 
کا سبب پوچھا تو کہنے لگا میرے آقا کے پاس گندم کی بہت بڑی مقدر موجود ہے اور مجھے اپنے آقا پر بھوسا ہے کہ وہ مجھے اس میں سے کھلاۓ گا اس لیے مجھے قحط سالی کی فکر نہیں .

غلام کی یہ بات سن کر خلیفہ نے کہا : 
جب یہ غلام اپنے جیسے انسان پر بھروسا کر کہ مطمٸن ہے تو پھر ہم اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ اللہ پاک پر توکل  trust کریں : (  کتاب توکل اللہ پر بھروسا ص 4 )

اپنے اللہ پر یقین بھروسا توکل رکھیں تو سب کام اچھے ہو جاتے ہیں اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ سب کچھ جانتا ہے 

ماضی حال مستقبل سب اسے نے پیدا کیا 
ماضی میں جو کچھ ہوا  وہ بھی اللہ کی طرف سے آیا 
حال میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی اللہ کی طرف سے ہے 
مستقبل میں جو ہو گا وہ بھی اللہ جنتا ہے 
 
اب بتاٸیں ہم کیا ہے اس رب کے آگے اس کی مرضی کے بغیر ہم سانس بھی نہیں لے سکتے 

جب سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے تو ہم اللہ پر بھروسا کیوں نہیں کر تے کہ اللہ ہی ہمارے دکھ درد پریشانیوں کو دور کرے گا 
ہم مسلمان ہیں اور ہمیں اپنے رب عزوجل پر بھروسا ہونا چاٸیے 
مثلہ یہ ہے کہ ہمیں اللہ سے مانگنا ہی نہیں آتا دعا بھی ہماری ایسی ہوتی ہے کے جلدی جلدی آمین کیا اور چل دیئے 
دعا کرتے وقت ہمارا ذہن اللہ کی طرف نہیں بلکے دنیا کی طرف ہوتا ہے 

پیارے آقا ﷺ کا فرمان ہے دعا مومن کا ہتھیار ہے . ایک اور جگہ پر فرمایا دعا عبادت کا مغز ہے  
اللہ ہم سب کی نیک اور جائز دعاٸیں قبول فرماے آمین