نمازی بنانے کا عجیب طریقہ  

bachon-ki-tarbiyat-quotes-bachon-ki-tarbiyat-quotes-in-urdu-bachon-ki-nafsiyat
bachon-ki-tarbiyat-quotes-bachon-ki-tarbiyat-quotes-in-urdu-bachon-ki-nafsiyat

ایک نیک گھرانے کے  شریف اور سعادت مند بچے کو بچپن سے شکر (براؤن شوگر ) بہت پسند تھی اس کی امی جان نے پہلی بار جب اس کو نماز کی ترغیب سی تو فرمایا :
بیٹا ! نماز پڑھا کرو اس سےاللہ پاک راضی ہوتا ہے  اور عبادت گزار بندون کو انعامات سے نوازتا ہے تم نماز پڑھو  گے تو تمہیں شکر ملا کرے گی وہ خوش نصیب بچہ جب نماز ادا کرتا تو امی جاۓ نماز کے نیچے شکر کی ایک پڑیا (small packet ) رکھ دیا کرتیں وہ بچہ پابندی سے نماز ادا کرتا اور نماز کے بعد شکر کی صورت میں اپنی پسندیدہ  شے کو حاصل کرلیا کرتا تھا ایک دن اس کی امی مصروفیات کے باعث جاۓ نماز کے نیچے شکر رکھنا بھول گیں ۔ جب وہ بچہ نماز سے فارغ ہوا تو امی نے پوچھا : بیٹا ! شکر ملی ؟ سعادت مند بیٹے نے عرض کیا : جی ہاں ! مجھے ہر نماز کے بعد شکر مل جاتی ہے یہ سنتے ہی امی جان رو پڑیں اور اس غینی مدد پر دل ہی دل میں اللہ پاک کا شکر ادا کر نے لگیں ۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ سعادت مند اور خوش نصیب نمازیی بچہ کون تھا  ؟  یہ مشہور ولی اللہ سلسہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرچشتی (رحمتہ اللہ علیہ ) تھے
                                     تعارف
آپ(رحمتہ اللہ علیہ ) 569 یا 571 ھ مطابق 1175ء میں ملتان کے قصبہ " کھتوال " میں پیدا ہوۓ آپ (رحمتہ اللہ علیہ ) کا اصل نام " مسعود " ہے جبکہ  " فرید الدین گنج شکر " کے لقب سے مشہور ہیں آپ(رحمتہ اللہ علیہ ) کا سلسلہ نسب جنتی صحابی امیرالمومین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک پہنچتا  ہے


ماں بچے کے لیے گویا  زمین کی حیثیت رکھتی ہے لٰہزا بیوی کے انتخاب کے سلسلے میں مرد کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ ماں کی اچھی یا بری عادات کل اولاد میں بھی منتقل ہوں گی ۔ نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے چار چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے
1 ) اس کا مال 
2 )  حسب نسب
3 )  حسن و جمال
4 )  دین
" پھر فرمایا " تمھارا ہاتھ خاک آلود ہو تم دیندار عورت کے حصول کی کوشش کرو

دعوت اسلامی کے مکتبہ مدینہ کی کتاب ( سیرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ ) ص 1 ۔ 2