ذیابیطس سے کیسے بچا جائے؟

diabetes-types-diabetes-treatment-how-to-avoid-diabetes-Spiritual-cure-of-diabetes-ziabetes-ka-wazifa-sugar-ka-wazifa
diabetes-types-diabetes-treatment-how-to-avoid-diabetes-Spiritual-cure-of-diabetes-sugar-ka-wazifa

دوسری بات یہ کہ کیا ہم کھانے سے متعلق چیزوں کے بارے کہ میٹھا کھانے سے ہی شوگر ہوتا ہے

یا ذیابیطس کی کوئی اور وجوہات ہیں؟ ذیابیطس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اول ، مثال کے طور پر میٹھی اشیاء جیسے سویٹ میٹ ، خاص طور پر سفید چینی شاید اس کو میٹھا زہر کہنا غلط نہیں ہوگا ۔لوگ اس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں یہاں تک کہ لوگ چائے میں ڈبل چمچ چینی شوگر ڈالتے ہیں۔

سب سے پہلے، انہوں نے ایک بڑا پیالا لیا جو جگ کی طرح ہے امیر دعوت اسلامی محمد الیاس عطار قادری فرماتے ہیں میں چائے کو میٹھا مشروب کہتا ہوں تو بعد میں آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہوجاتے ہیں۔ ان غریب لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے وہ جو بیٹھ کر زیادہ تر کام کرتے ہیں اور چلتے نہیں ہیں اور جو بہت زیادہ کھاتے ہیں وہ یقینی طور پر ، چینی کی خوراک صرف چینی میں موجود نہیں ہے بلکہ دوسری چیزوں میں بھی چینی ہوتی ہے۔ چاول میں چینی بھی ہوتی ہےچاول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر اس کو ابالا جاتا ہے۔ بریانی کو شاید اسی طرح سے پکایا جاتا ہے جس طرح چاول ابل جاتا ہےاور پھر پانی بہا دیا جاتا ہے۔ چاہے آپ ابلے ہوئے چاول کھانے چاہیں

لہذا جس پانی میں یہ پہلے ابلتا ہے اسے نکال دینا چاہئے ،اور کہا جاتا ہے کہ چاول میں شوگر کی مقدار کم ہوجاتی ہے ۔ ذیابیطس کا سبب نہیں بنتی ہے اور اس کے کچھ دیگر نقصان دہ عناصر کو بھی ختم کردیا جاتا ہے اور کسی کو کچھ حد تک چاول کے نقصانات ہوتے ہیں۔

تجربہ کار لوگ یہ کہتے ہیں۔ اس طرح اگرکوئی شخص احتیاط کرتا ہے تو وہ بہتر ہوسکتا ہے۔ بہت ساری اور فررٹ ہیں جن میں شوگر یک مقدر کم یا زیادہ ہوتی ہے

ذیابیطس کا روحانی علاج

پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل، آیات نمبر80

diabetes-types-diabetes-treatment-how-to-avoid-diabetes-Spiritual-cure-of-diabetes-ziabetes-ka-wazifa-sugar-ka-wazifa
diabetes-types-diabetes-treatment-how-to-avoid-diabetes-Spiritual-cure-of-diabetes-sugar-ka-wazifa

اس قرانی دعا روزانہ صبح و شام 3 - 3 بار پڑھیں ( اول آخر میں 3 - 3 بار درود پاک ) پڑھ کر پانی پر دم کرکے پیں ( مدت علاج : تا حصول شفا ) مطلب جب تک بیماری ختم نہ ہو جاۓ تب تک پڑھتے رہیں