غار ثور اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ

ghar-e-sor-ka-waqia-in-urdu
ghar-e-sor-ka-waqia-in-urdu

ہجرت مدینہ کے موقع پر سرکاری نامدار مکے مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے راز دار و جان نثار یار غار و یار مزارحضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی جو اعلی مثال قائم فرمائی وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں تھوڑے بہت کے فرق کے ساتھ مختلف کتابوں میں میں اس مضمون کی روایات ملتی ہیں کے اللہ کے حبیب لبیب بےچین دلوں کے طبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم غار ثور کے قریب پہنچے تو حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ غار میں داخل ہوئے صفائی کی تمام سوراخوں کو بند کیا آخری دونوں سوراخوں کو بند کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی پاؤں مبارک سے ان دونوں سوراخوں کو بند کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے تشریف آوری کی درخواست کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئےاور اپنے وفادار یار غار صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے زانوں پر سر انور رکھ کر سو گئے اس غار میں ایک سانپ تھا اس نے پاؤں میں ڈس لیا مگر قربان جائیں اس پیکرعشق و محبت پر کہ درد کی شدت و کلفت یعنی تکلیف کے باوجود محض اس خیال سے کہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے آرام میں خلل واقع نہ ہو بدستور ساکن و صامت ۔ یعنی بے حرکت وہ خاموش رہے مگر شدت تکلیف کی وجہ سے غیر اختیاری طور پر چشمان مبارک میں سے یعنی آنکھوں میں سے آنسو بہہ نکلے اشک عشق کے چند قطرے محبوب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وجہ کریم یعنی کرم والے چہرے پر نچھاور ہوۓ تو شان عالی وقار بے کسوں کےغم گسار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے پر استفسار فرمایا اے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کیوں روتے ہو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سانپ کے ڈسنے کا واقعہ کا عرض کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ڈسے ہوۓ پر اپنا لعاب دہن تھوک شریف لگایا تو فورا آرام آگیا سبحان اللہ ماشاء اللہ عزوجل

! غار کے اس پار سمندر نظر آیا

اسی طرح ایک اور واقعہ ہے بعض سیرت نگاروں نے لکھا ہےکہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے دشمن کے دیکھ لینے کا خدشہ ظاہر کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ ادھر سے داخل ہوۓ تو ہم ادھر سے نکل جائیں گے ہیں عاشق اکبر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے ادھر نگاہ کی تو دوسری طرف ایک دروازہ نظر آیا جس کے ساتھ ہی ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا نظر آ رہا تھا اورغارکے دوسرے دروازے پر ایک کشتی بندھی ہوئی تھی میرے آقا مولا اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی
( کیا شان ہے سبحان اللہ ماشاء اللہ عزوجل ( مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی کی کتاب عاشق اکبر